ابنا: ضلع بدین کے 3 ہزار سے زائد سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل معطل ہے۔پنگریو، گولاڑچی اور ماتلی کے دیہات میں قائم مراکز صحت بھی اب تک پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور لوگوں کو علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ضلع ٹنڈو محمد خان میں تمام سرکاری اسکولوں کو ریلیف کیمپوں میں تبدیل کردیا گیا ہے۔سانگھڑ شہرکا نصف سے زائد حصہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہواہے۔ گندے پانی اورمردہ جانوروں سے تعفن اٹھ رہا ہے، اکثراسپتال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔میرپورخاص ،جھڈو،ٹنڈو جان محمد اور نوکوٹ میں 18 روز گزرنے کے بعد بھی بارش کے پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی ہے۔ میرپورخاص کی کئی آبادیاں اور سرکاری دفاتر بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شاہراہیں زیرآب آنے سے کئی علاقوں کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہے۔نوابشاہ کی تحصیل دوڑ، قاضی احمد اور دولت پور کے کئی علاقوں میں اب تک بارش کا پانی کھڑا ہے۔ گندگی اور پینے کے آلودہ پانی کے استعمال سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ضلع دادو میں دیہی علاقوں کے اسکولوں اورمراکز صحت میں بارش کا پانی کھڑا ہونے سے علاج کی سہولتیں اور تدریسی عمل معطل ہیں۔کاچھو میں 15 روز گزرنے کے باوجودسیلابی پانی کھڑا ہونے اورسڑکوں کے زیرآب آنے سے متاثرین پریشان ہیں۔پاک فوج کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی آپریشن جاری ہے۔اسپتالوں میں متاثرین کو طبی امداددی جارہی ہے اور دوردراز علاقوں میں موجود لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے کھانے پینے کا سامان پہنچایا جارہا ہے۔اڑکانہ کیلاہوری محلہ ، نظر محلہ ، لوہر کالونی ، باقرانی روڈ ، شیخ زیدکالونی ، ٹانگہ اسٹینڈ اور دیگر علاقوں میں بارش کا پانی اور کیچڑ جمع ہے جس سے شہریوں کو آمدروفت میں مشکلات کا سامناہے۔حیدر آباد کے نواحی علاقوں میں اب بھی کئی علاقوں سے بارش کے پانی کی مکمل نکاسی نہیں ہوسکی ہے۔ کیچڑاورگندگی سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
............
/169